بنٹوال :10/جولائی (ایس اؤنیوز) فسادزدہ بنٹوال تعلقہ میں پچھلے 45دنوں سے امتناعی احکامات نافذ ہیں، سیکشن 44اور پولس کے سخت جال کے درمیان بھی ناخوشگوارواقعات سے پیدا ہوئی کشیدگی بنٹوال تعلقہ کے اہم تجارتی مرکز کے تاجروں پر راست اثر ات پڑے ہیں۔
کلڈکا ، ملکار ، بی سی روڈ، کئی کمباوغیرہ مقامات پر بیوپار نہیں ہونے سے تاجر حضرات نقصان اٹھا رہے ہیں، آٹورکشا ، ٹیکسی ، گوڈس ٹیمپو کے مالکان کرایہ نہیں ملنے سے حیران و پریشان ہیں، کمائیں گے نہیں تو کیا کھائیں گھٹ رہے ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ پولس کھلی سڑکوں پر ہی سکیورٹی انتظامات کے لئے کھڑے ہونے سے عوامی کاموں کے لئے بڑی رکاوٹ ہورہی ہے، مسلسل فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے عوام گھر وں سے نکلنے پر خوف کھارہے ہیں، اعتماد کے بغیر عوام کنگال ہوگئے ہیں۔ 26 مئی کو کلڈکا کی ایک مسجد سے گھر جارہے 2نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کئے جانے کے بعد سے حالات کشیدہ ہوگئے تو بنٹوال تعلقہ بھر میں 27مئی سے امتناعی احکامات نافذ کئے گئےجس کی لگاتار توسیع کی جارہی ہے، اس کے باوجود تعلقہ میں 2قتل ، 6قاتلانہ حملے کی کوششیں ، 2حملے سمیت پتھراؤ ، عوامی جائیدادکونقصان پہنچانے والی وارداتیں انجام دی گئی ہیں۔ بنٹوال شہری اور دیہی پولس تھانے میں 100سے زائد افراد کے خلاف کیس درج کئے گئے ہیں۔
فرقہ وارانہ فساد، قتل و غارت گری ، قاتلانہ حملہ کی کوششیں ، حملے ، لاٹھی چارج سے سہمے ہوئے عوام بازار کی طرف رخ کرنے خوف کھا رہے ہیں۔ ضرور ی کام ہونے پر فوری گھر پہنچنے کی فکر میں ہیں، ہوٹل کی صنعت پوری طرح ٹھپ ہوگئی ہے، ترکاری ، پھل پھلاری ، پھول ، دودھ جیسے بیوپاری کافی نقصان اٹھارہے ہیں، آٹو، رکشا، ٹیکسی ، گوڈس ٹمپو مالکان کاکرایہ نہ ہونے سے سر چکرا رہاہے، عوامی ذہنی اذیت سے تنگ آگئے ہیں۔ ایک طرف پولس تھانوں میں عملے کی قلت ہے، جتناعملہ موجود ہے دن رات سڑک پر کھڑے رہ کر سکیورٹی میں لگے ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پولس تھانوں کا کام متاثر ہورہاہے، پولس افسران کھانا پینا، سکھ چین چھوڑکر کام کرنے کے بعد بھی تعلقہ میں پیدا ہوئے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔
بی سی روڈ کے ایک پھول بیوپاری گنیش بنٹوال کا کہنا ہے کہ دھاندلی کی وجہ سے ڈیڑھ مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہوا کچھ بھی بیوپار نہیں ہے، روزانہ منگلورو سے پھول لانے والا میں اب 3دن میں ایک مرتبہ لارہاہوں، وہ بھی بہت کم ، اس میں بھی آدھے سے زیادہ مرجھا جاتے ہیں، دوسرے دن کچرے کے ڈبے میں پھینک دیتاہوں، ہزاروں روپیوں کانقصان ہورہاہے، دکان کا کرایہ جانے دیجئے ، زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔

آٹوڈرائیور گوپال کئی کمبا کا کہنا ہے کہ عوام بازار کی طرف نکلنے سے ڈر رہے ہیں، ایک مہینہ ہوگیا کرایہ مطلق نہیں ہے ، گذشتہ ایک ہفتہ سے تو کرایہ ہے ہی نہیں ۔ پولس کی موجودگی کے باوجود بنٹوال میں خوف کا ماحول ہے ، رات کے اوقات میں کرایہ پر آٹو چلانا سیف محسوس نہیں ہوتا، اسی لئے تمام آٹوڈرائیور اندھیراہونے سے پہلے گھر چلے جاتے ہیں، گھر کا خرچ کیسے چلے گا، اس کے علاوہ بینک سے قرضہ لے کر آٹو خریدے گئے ہیں کیا کرنا ،پورا کنگال ہوگئے ہیں صاحب۔ مشکل ہے۔

فرنگی پیٹ کے مچھلی بیوپاری لطیف کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار کو مچھلی کا بمپر بیوپار ہوتاہے دیکھئے ایک پیسے کا بیوپار نہیں ہے ، فساد کی وجہ سے عوام بازار نہیں آرہے ہیں،دکان کاکرایہ ، 3مزدوروں کی تنخواہ دینا ہے نا؟ کہاں سے لائیں؟۔ اس دن کی مچھلی اسی دن خالی ہونی ہے، دوسرے دن کوئی بھی خریدتانہیں ، نقصان پر نقصان ہورہاہے۔
بنٹوال تعلقہ میں خونی سڑکیں، آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر کچھ زیادہ ہی ہے ، سیاسی فائدے کے لئے بربریت کا ننگا ناچ کھیلا جارہاہے ، شرپسندوں کی کارستانی کے لئے معصوم ہلاک ہورہے ہیں، فسادیوں سے عوام کا اعتماد کھو گیا ہے ، ذہنی اذیت بڑھ رہی ہے ، فساد زدہ تعلقہ میں امن بحال کرنے کی خاطر بی سی روڈ سے کلڈکا تک ’’ امن کے لئے پاد یاترا‘‘ کا اہتمام کئے جانے کی سماجی کارکن پربھاکر دئیویا گوڈے نے جانکاری دی۔ اس یاترا میں کسی بھی سیاسی پارٹی یا سیاست دان کو موقع نہیں دیاجائے گا، تینوں دھرموں کے مذہبی پیشواؤں کے ساتھ اس کا افتتاح ہوگا، اس پروگرام میں یکساں ذہنیت ، بھائی چارگی کے خواہاں افراد شریک ہونگے ۔